پانچ سال دھکے کھانے کے بعد بھی خود کو زندہ ثابت کرنے میں ناکام

Views: 261

دریا خان (نمائندہ خصوصی) نادرا کی طرف سے مردہ قرار دی گئی خاتون پانچ سالوں سے دھکے کھانے کے باوجود ملک بھر کے دفتروں میں خود کو زندہ ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق دریاخان کے نواحی علاقہ کہاوڑ کلاں کے رہائشی دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے غلام شبیر نام کے شہریوںکی بیویوں کے نام بھی اتفاق سے ایک ہی جیسے تھے، جن میں سے ایک خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ 10نومبر 2012 کو طبعی طور فوت ہو گئی جس کا اندراج فوتگی یونین کونسل کہاوڑ کلاں میں اس کے بیٹے جہانگیر احمد نے درج کرواتے ہوئے باضابطہ کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ متوفیہ کی ہم نام دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم ارائیں نے قومی شناختی کارڈ کی مدت میعاد ختم ہونے پر نئے شناختی کارڈ کیلئے نادرا سنٹر دریا خان سے رجوع کیا۔

نادرا دفتر نے خنائی مائی کو ٹوکن نمبر 108301043761/52 جاری کیا، مگر بعد ازاں مقررہ وقت پر کارڈ جاری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا گیا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق مذکورہ خاتون وفات پاچکی ہے۔

متاثرہ خاتون کے شوہر نے صورتحال کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کہاوڑ کلاں کی رہائشی دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ کو نادرا کی طرف سے جاری کیا گیا شناختی کارڈ اس کی زوجہ کے آئی ڈی نمبر کے مطابق جاری کردیا گیا، جو مذکورہ کی وفات کے اندراج کی صورت میں بلاک کردیا گیا، زندہ خنائی مائی گزشتہ پانچ سال سے نادراکی نااہلی سے کھو جانے والی اپنی قومی شناخت کے حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہے، جائیداد کی منتقلی، عمرہ وحج کی ادائیگی کیلئے بیرون ملک سفر سمیت شوہر کی پنشن کے حق سے بھی محرومی نے خاتون کی پریشانیوں میں اضافہ کردیاہے، نادرا کے ہر سطح کے حکام نے زندہ خاتون کواس کے بنیادی آئینی حق کی فراہمی سے مکمل معذوری ظاہر کردی ہے، سیکرٹری یونین کونسل کہاوڑ کلاں بشیر حسین نے تصدیق کرتے ہوئے کہا نادرا اہلکاروں کی نااہلی کے باعث زندہ خاتون کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments